Aitbar Sajid Biography, Poetry, Books and Literary Legacy
یہ حَدیں نہ توڑ دینا ، میرے دائرے میں رَھنا
مُجھے اپنے دِل میں رَکھنا ، میرے حافظے میں رَھنا۔
میرا بوجھ خود اُٹھانا ، میرا کَرب آپ سَہنا
میرے زخم بانٹ لینا ، میرے رَتجگے میں رَھنا
میرے حُکم خُود سُننا ، میری مُہر خود لگانا
میرے مَشورے میں ھونا ، میرے فیصلے میں رَھنا۔
میرے منظروں میں بَسنا ، میری گُفتگو میں ھونا
میرے لَمس میں سَمانا ، میرے ذائقے میں رَھنا۔
کبھی دُھوپ کہ نَگر میں ٫ میرا ساتھ چھوڑ جانا
کبھی میرا عَکس بن کر ٫ میرے آئینے میں رَھنا۔
کبھی مَنزِلوں کی صُورت ٫ میری دَسترس سے باھر
کبھی سَنگِ مِیل بن کر ٫ میرے راستے میں رَھنا۔
میرے ھاتھ کی لَکیریں ٫ تیرا نام بن کے چَمکیں
میری خُواھشوں کی خُوشبو ، میرے زائچے میں رَھنا۔
❞اَعتبار ساجد❝
Aitbar Sajid Biography, Poetry, Books & Literary Legacy
Introduction:
Aitbar Sajid was a renowned Pakistani Urdu poet known for his deeply emotional and simple poetic style. His poetry beautifully expressed themes of love, separation, memory, and inner pain, making him one of the most relatable voices in modern Urdu literature.
Born in Multan, Aitbar Sajid later lived in Rawalpindi and Islamabad, where he remained actively connected with literary circles. He was also associated with teaching, and his calm, thoughtful personality reflected clearly in his writing. His words spoke softly yet carried great emotional depth.
Aitbar Sajid gained wide recognition through his ghazals and poems, which focused on human emotions rather than exaggerated romanticism. His famous poetry collections include Dastak Band Kawaron Par, Aamad, Wohi Ek Zakhm Gulab Sa, and Mujhe Koi Shaam Udhar Do. His popular work Mere Khat Mujhe Wapas Kar Do is considered a masterpiece of emotional expression.
As a poet, Aitbar Sajid excelled in ghazal writing. His style was marked by simple language, strong imagery, and a quiet sense of sorrow. He was often described as a poet of silence, longing, and emotional honesty.
Aitbar Sajid’s literary legacy continues to live on through his poetry, which remains widely read and shared. His contribution to Urdu literature has secured him a lasting place among Pakistan’s most respected poets.
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری
بھیڑ میں بھی تمہیں مل جاؤں گا آسانی سے
کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری
میں نے اک بار کہا تھا کہ بہت پیاسا ہوں
تب سے مشہور ہوئی تشنہ دہانی میری
یہی دیوار و در و بام تھے میرے ہم راز
انہی گلیوں میں بھٹکتی تھی جوانی میری
تو بھی اس شہر کا باسی ہے تو دل سے لگ جا
تجھ سے وابستہ ہے اک یاد پرانی میری
کربلا دشت محبت کو بنا رکھا ہے
کیا غزل گوئی ہے کیا مرثیہ خوانی میری
دھیمے لہجے کا سخنور ہوں نہ صہبا ہوں نہ جوش
میں کہاں اور کہاں شعلہ بیانی میری

اعتبار ساجدؔ — محبت، تنہائی اور کرب کا سچا شاعر
اعتبار ساجد کا اصل نام سید اعتبار حسین ہے اور وہ شاعری میں ساجد کے تخلص سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش یکم جولائی 1948ء کو ملتان، پنجاب میں ہوئی۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے کو اپنایا اور اسی میدان میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں وہ گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان میں بطور لیکچرر تعینات رہے، بعد ازاں اسلام آباد میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
اعتبار ساجد صرف شاعری تک محدود نہیں رہے بلکہ نثر میں بھی ان کی متعدد تصانیف موجود ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’دستک بند کواڑوں پر‘‘، ’’آمد‘‘، ’’وہی ایک زخم گلاب سا‘‘ اور ’’مجھے کوئی شام ادھار دو‘‘ شامل ہیں، جنہوں نے ادبی حلقوں میں خاص مقام حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے لکھی گئی ان کی کتابیں بھی بے حد مقبول ہوئیں، جن میں ’’راجو کی سرگزشت‘‘، ’’آدم پور کا راجہ‘‘، ’’پھول سی اک شہزادی‘‘ اور ’’مٹی کی اشرفیاں‘‘ نمایاں ہیں۔ ان تصانیف کا حوالہ پیمانۂ غزل (جلد دوم) میں محمد شمس الحق نے صفحہ 391 پر درج کیا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتے بلکہ مزید روشن ہو جاتے ہیں۔ اعتبار ساجدؔ بھی انہی میں سے ایک تھے۔ وہ شاعر جنہوں نے محبت کو لفظوں میں نہیں، احساس میں ڈھالا؛ جنہوں نے جدائی کو شور نہیں بنایا بلکہ خاموشی میں بیان کیا۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ایسا خلا ہے جو مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔
اعتبار ساجدؔ پاکستان کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری نے عوام اور خواص دونوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کا کلام سادہ، شفاف اور براہِ راست دل سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ بناوٹ سے پاک اور خلوص سے بھرپور لہجے کے شاعر تھے۔ یہ شہر صوفیانہ روایت، محبت اور دردمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور یہی رنگ ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ بعد ازاں وہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم رہے، جہاں ان کی ادبی پہچان مزید مضبوط ہوئی۔
اعتبار ایک ذمہ دار، باوقار اور سنجیدہ استاد تھے۔ ادب ان کے لیے محض مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد تھا۔ تدریس اور تخلیق کا یہ امتزاج ان کی شخصیت کو نکھارتا رہا۔ ذاتی زندگی اور مزاج کے اعتبار ساجدؔ کم گو، سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ محفلوں میں زیادہ بولتے نہیں تھے، مگر جب قلم اٹھاتے تو دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی سادگی سے عبارت تھی، جبکہ ان کی باطنی دنیا جذبات، یادوں اور تنہائی سے بھری ہوئی تھی۔


ادبی خدمات اور تصانیف
اعتبار ساجدؔ نے اردو ادب کو کئی یادگار کتابیں دیں۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، مگر نظم اور نثری نظم میں بھی ان کی پہچان نمایاں ہے۔ مشہور شعری مجموعے۔۔–>
آمد
مجھے کوئی شام ادھار دو۔
میرے خط مجھے واپس کر دو
تمہیں کتنا چاہتے ہیں
کوئی بات کرنی ہے چاند سے
یہ کتابیں محبت، جدائی اور انسانی کرب کا آئینہ ہیں
اعتبار ساجدؔ کی شاعری — منتخب اشعار
اعتبار ساجدؔ کی شاعری کا حسن اس کی سادگی اور گہرائی میں پوشیدہ ہے۔
پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
یاد کے شہر میں اک نرم سی آہٹ ہم تھے
یہ شعر ماضی کی خوبصورتی اور یادوں کی لطافت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
دھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیں
زندگی نے ہمیں کیسی سزائیں دی ہیں
یہاں زندگی کی تلخی اور انسان کی بے بسی ایک طاقتور استعارے میں سمٹ آتی ہے۔


شعری اسلوب اور فکری جہت
اعتبار ساجدؔ کا اسلوب درج ذیل خصوصیات رکھتا ہے:
سادہ اور رواں زبان جذبات کی براہِ راست ترسیل محبت کا نرم اور سنجیدہ اظہار جدائی، انتظار اور تنہائی کے مضبوط استعارے خاموش درد اور داخلی کرب وہ رومانوی کرب کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں چیخ نہیں، سسکی ہے؛ شور نہیں، خاموشی ہے۔
اسلوبِ بیان کے اعتبار سے اعتبار ساجد ایک منفرد شاعر ہیں۔ ان کا شعری مزاج بنیادی طور پر عاشقانہ ہے، جس میں تغزل کی پوری نزاکت اور رعنائی نمایاں طور پر موجود ہے۔ ان کی شاعری میں عشقِ مجازی کے رنگ بھی ملتے ہیں اور عشقِ حقیقی کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ان کے باطن میں ایک نہایت نرم، حساس اور درد شناس شاعر موجود ہے، جو نہایت سادگی کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔

نظم اور نثری نظم کا انداز
اعتبار ساجدؔ کی نظموں میں خط، مکالمہ اور خود کلامی کا رنگ نمایاں ہے۔ ان کی مشہور نثری نظم ’’میرے خط مجھے واپس کر دو‘‘ محض ایک نظم نہیں بلکہ محبت، خودداری اور جدائی کی مکمل داستان ہے۔
ھر دَرد پہن لینا ، ھر خُواب میں کھو جانا
کیا اَپنی طبیعت ھے ، ھَر شَخص کا ھو جانا۔
اِک شہر بَسا لینا ، بِچھڑے ھُوئے لوگوں کا
پِھر شَب کے جَزیرے میں ، دّل تھام کے سو جانا۔
موضُوعِ سُخن کُچھ ھو ، تا دیر اُسے تَکنا
ھر لفظ پہ رُک جانا ، ھَر بات پہ کھو جانا۔
آنا تو بِکھر جانا ، سانسوں میں مَہک بن کر
جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا
جاتے ھُوئے چُپ رَھنا ، اُن بولتی آنکھوں کا
خاموش تَکلم سے ، پَلکوں کو بِھگو جانا۔
لفظوں میں اُتر آنا ، اُن پُھول سے ھونٹوں کا
اِک لَمس کی خوشبُو کا ، پوروں میں سَمو جانا۔
ھَر شام عَزائم کے ، کُچھ مَحل بنا لینا
ھَر صُبح اِرادوں کی ٫ دَھلیز پہ سو جانا۔
اختتامی کلمات
اعتبار ساجدؔ نے محبت کو نمائش نہیں بنایا بلکہ اسے احساس کی سطح پر جیا۔ وہ چلے گئے، مگر ان کے لفظ زندہ ہیں۔ کچھ شاعر وقت میں دفن نہیں ہوتے وہ لفظوں میں سانس لیتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ اعتبار ساجدؔ کی مغفرت فرمائے اور اردو ادب کو ان کے فیض سے ہمیشہ روشن رکھے۔ آمین۔

Internal Links Aitbar Sajid Biography Urdu Poetry Blog Pakistani Poets Urdu Literature Ghazal Poetry Literary Legends of Pakistan
External Links
Aitbar Sajid Poetry on UrduPoint
Aitbar Sajid Profile on Rekhta
Urdu Poets Archive – Rekhta
Aitbar Sajid on Wikipedia
Urdu Poetry Overview
Urdu Poetry Collection
6 comments